Posts

Showing posts from December, 2019
*وقت* 1998 میں *کوڈک* میں 1،70،000 ملازمین کام کر رہے تھے.. وہ دنیا میں 85٪ فوٹو پیپر فروخت کرتے تھے.. کچھ سالوں میں ڈیجیٹل فوٹو گرافی نے انہیں بازار سے نکال دیا.. کوڈک دیوالیہ ہو گیا.. اس کے تمام ملازمین سڑک پر چلے گئے.. ان سب کے معیار میں کوئی کمی نہیں تھی.. پھر بھی وہ مارکیٹ سے باہر.....!! وجہ......؟؟؟ وقت کے ساتھ ساتھ وہ تبدیل نہیں ہوئے....!! آنے والے 10 سالوں میں دنیا پوری طرح سے تبدیل ہو جائے گی.. آج چلنے والی صنعتوں میں سے 70٪ سے 90٪ بند ہوجائیں گی.. *چوتھے صنعتی انقلاب میں خوش آمدید…* اوبر (Uber) صرف ایک سافٹ ویئر ہے.. اپنی ایک بھی کار نہ ہونے کے باوجود وہ دنیا کی سب سے بڑی ٹیکسی کمپنی ہے.. ایئر بی این بی (Air BNB) دنیا کی سب سے بڑی ہوٹل کمپنی ہے.. حالانکہ ان کے پاس اپنا کوئی ہوٹل نہیں ہے.. پیٹیم ، اولا ٹیکس ، اویو کمرے جیسے بہت ساری مثالوں میں ہیں.. اب امریکہ میں نوجوان وکلاء کے لئے کوئی کام باقی نہیں ہے.. کیونکہ آئی بی ایم واٹسن IBM Watson سافٹ ویئر ایک لمحے میں بہتر قانونی مشورے دیتا ہے.. اگلے 10 سالوں میں 90% امریکی وکیل بے روزگار ہو جائیں گے ... جو لوگ 10٪ بچ جائیں گے.. وہ...
شعور کے قاتل پاکستانی معاشرے میں علمی بحث کے لئے نہ دلیل نہ منطق نہ شعور نہ ہی عقل چاہیے بس چند ٹپس آپ کو آنے چاہیے۔ پہلا ٹپس کوشش کرو کے مخالف کو ایموشنل بلیک میل کرو اس پہ تنز و مذاق کر کے مثلا آپ ابھی تک بچے ہو ، آپ پیدا بھی نہیں ہوئے تھے جب میں یہ تیر مار رہا تھا۔ دوسرا ٹپس مخالف کی تذلیل کرو بے ہودا الفاظ سے، تیسرا ٹپس آواز بلند کرو چوتھا ٹپس بات عقل کے بجائے سینے کے زور سے نکالو۔ پانچواں ٹپس چیخنا چلانا شروع کرو. چھٹا مخالف پہ کفر کا فتوی لگا دو۔ساتواں مخالف پہ ملک دشمن اور غداری کا ٹیگ لگادو۔ آپ میں یہ خصوصیات ہے تو آپ پاکستانی معاشرے کے سقراط، افلاطون، ائن سٹائن جانے جاو گے. کیونکہ ناظرین اور حاضرین جو سن اور دیکھ رہے ہیں۔ وہ بھی نہ دلیل سمجھتے ہیں نہ عقل و شعور نامی چیز کی پہچان رکھتی ہیں۔ آپ اس معاشرے کے قابل ترین شخصیات میں سے جانے جاو گے۔ پشتو میں ایک ضرب المثل ہے " زور چی زورور سئ عقل مرور سئ " یعنی جب طاقت بولتا ہے تو عقل و شعور خاموش ہو کے سنتا ہے۔ یہ طرز افلاطونی ہم نے اپنے قبیلوی سسٹم سے سیکھا ہے۔ ہمارے ان قبیلوی دانشوروں کے درمیان اگر آپ ...