شعور کے قاتل پاکستانی معاشرے میں علمی بحث کے لئے نہ دلیل نہ منطق نہ شعور نہ ہی عقل چاہیے بس چند ٹپس آپ کو آنے چاہیے۔ پہلا ٹپس کوشش کرو کے مخالف کو ایموشنل بلیک میل کرو اس پہ تنز و مذاق کر کے مثلا آپ ابھی تک بچے ہو ، آپ پیدا بھی نہیں ہوئے تھے جب میں یہ تیر مار رہا تھا۔ دوسرا ٹپس مخالف کی تذلیل کرو بے ہودا الفاظ سے، تیسرا ٹپس آواز بلند کرو چوتھا ٹپس بات عقل کے بجائے سینے کے زور سے نکالو۔ پانچواں ٹپس چیخنا چلانا شروع کرو. چھٹا مخالف پہ کفر کا فتوی لگا دو۔ساتواں مخالف پہ ملک دشمن اور غداری کا ٹیگ لگادو۔ آپ میں یہ خصوصیات ہے تو آپ پاکستانی معاشرے کے سقراط، افلاطون، ائن سٹائن جانے جاو گے. کیونکہ ناظرین اور حاضرین جو سن اور دیکھ رہے ہیں۔ وہ بھی نہ دلیل سمجھتے ہیں نہ عقل و شعور نامی چیز کی پہچان رکھتی ہیں۔ آپ اس معاشرے کے قابل ترین شخصیات میں سے جانے جاو گے۔ پشتو میں ایک ضرب المثل ہے " زور چی زورور سئ عقل مرور سئ " یعنی جب طاقت بولتا ہے تو عقل و شعور خاموش ہو کے سنتا ہے۔ یہ طرز افلاطونی ہم نے اپنے قبیلوی سسٹم سے سیکھا ہے۔ ہمارے ان قبیلوی دانشوروں کے درمیان اگر آپ افلاطون، سقراط، کانٹ، ائن سٹائن، نیتشے، سٹیفن ہاکنگ کو بیٹھا دو تو بھی یہ حضرات قبیلوی حاضرین و ناظرین کی موجودگی میں ان کو اپنے بحث میں تنز و مزاح کا شکار کر کے داد سمیٹ لیں گے۔اور یہ ثابت کر دے گئے کہ یہ تو سارے بےوقوف ہیں۔ اس کے برعکس اگر آپ ایک مہذب دنیا کا علمی بحث دیکھ لیں تو وہاں شخصیات کو نہیں بلکہ بات میں وزن دلیل کو دیکھا جاتا ہے۔ اور وہاں کے ناظرین و حاضرین بھی اس عنوان کا علم رکھتے ہو گئے۔ اور وہ علمی بحث ہر طرح کے قیود اور پابندیوں سے بالاتر ہوتے ہیں۔ اور وہاں سینے کی ہوا کے زور کے بجائے دلیل کے وزن کو دیکھا جاتا ہے۔وہاں منہ کے جھاگ نکالنے کے بجائے الفاظ اور علم کی منطق کو اہمیت دی جاتی ہیں۔ وہاں پہ عمر کی لمبائی کو نہیں عقل کی تیزی کو دیکھتے ہے۔ وہاں پہ تشدد اور سختی سے نہیں بلکہ علمی شائستگی سے بات رکھی جاتی ہیں۔ اس لئے وہ معاشرے سٹیفن ہاکنگ کو پیدا کرتے ہے۔ جو زبان سے نہیں فلکوں سے اپنا نقطہ نظر پیش کرتا ہے اور پوری مغرب ان کو دل و دماغ سے سنتی ہے۔ اور ہمارے معاشرے میں فواد چوہدری، مولانا فضل الرحمن،عمران خان اور دوسرےان جیسے سیانےپیداہوتے ہے۔

Comments